داعش اورامام سیاست 22/9/2012 کوامام سیاست نےسٹیٹمنٹ دی تھی کہ:

” پراکسی وار(اجنبی لڑائی)کوامت مسلمہ میں باقاعدہ فروغ دینےکےلئےسرد جنگ جاری ہے،ایک فرضی تنظیم جوخودمغرب کی تشکیل دی ہوئی ہےاسےبنیادبناکر نیٹواتحاد،یاان کےاجازت سے متعلقہ اسلامی ممالک کاروائی کریگی،یہ وارپراکسی وارنہیں کہلائیگی، تیسری عالمی کوہرایک اپناجنگ کہےگااس جنگ کاپہلاہدف اسلامی تہذیب وثقافت ہے ”
.
آج کےایکسپریس میں پاکستانی لیڈرشپ کس طرح امریکہ کودعوت دےرہاہے؟
نمونہ مشتےازخروار ملاحظہ فرمالیں. . . . . . . . . . .
.

داعش میںشمولیت کیلئےلوگ بھجواۓجارہےہیں،اراکین قومی اسمبلی_ (تفصیل- ایکسپریس صفحہ اول وبقیہ)
.
سن -دوہزارسولہ- دہشتگردی کےخاتمےکاسال ہوگا-ایکسپریس شہ سرخی(آرمی چیف جنرل راحیل شریف)
.
داعش نےپاکستانی نوجوانوںکی بھرتی کیلئےامیرمقررکی ہے،تیس سےپچاس ہزارتنخواہ ماہانہ دیاجاتاہے،ٹریننگ افغانستان میںدی جاتی ہے(ایکسپریس صفحہ آٹھ پرپاکستانی رپورٹ)
.
داعش کوروکنےکیلئےمدارس اورمذہبی گھرانوںکی نگرانی شروع(تفصیل کیلئے،حوالہ بالا)
.
داعش اورطالبان پوری ملک میںپھیل چکے،اضلاع میںآپریش کیجاۓ،شیعہ رہنماناصرعباس جعفری(تفصیل دیکھیئےحوالہ بالا)
.
کیاہےیہ داعش داعش داعش ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟
.
=د=سے=دولت=/الف=سے=اسلامیہ=/ع=سے=عراق=/ش=سے=شام=
اس کی آمدن عرب تیل کی پیداوارپرہے،دنیاکی تیس فیصدتیل کی پیداوارپرقابض ہے،جن کی ساٹھ فیصدحصہ عالمی منڈی میںخودامریکہ خریدرہاہے،باقی دوسرےخلیجی اوردیگرناٹوممالک خریدرہےہیں، بعض کی راۓیہ ہےکہ اس فرضی تنظیم داعش کےسربراہ البغدادی کےوالدین غیرمسلم(ایک یہودی دوسراعیسائی)ہے،خود اس امیرالمؤمنین کےمتعلق کوئی ٹھوس ثبوت امریکہ وناٹوکےسواکسی کےپاس نہیںکہ وہ کون ہے؟
بانی پاکستان رحمۃاللہ علیہ کیطرح بنی بنائی گئی لیڈرہے،ماضی کسی بھی قسم کی قربانی،مصائب وآلام اورتکالیف سےبالکل پاک اورصاف ہے،
.
.
.
اس وارپرکس حدتک کام ہوچکاہےکتنی باقی ہے؟
امام سیاست کےبیانات پڑھ کرپرکھ لیںاورپھرجائزہ لیں!
.
سنجیدہ تمام اسلامی حلقےداعش کوایک فرضی تنظیم براۓفتنہ وفسادسمجھتےہیں،کٹھ پتلی حکمران ، فوج ،سیاستدان اورعلماءاس کوحقیقی تنظیم کہہ کراہل اسلام کوبےوقوف بنارہےہیں،اوراس کوجوازبناکرکفریہ طاقتوںکودعوت دےرہےہیں،چونتیس اسلامی ممالک کااتحادبھی اسی سلسلےکاایک کڑی ہے_
.الحسنی

Advertisements

افغان جنگ سے متعلق بابا شیرانی کا موقف: تحریر: محمد عمران اسلام آباد۔

آج مولانا سعید الرحمن سرور صاحب اور مرتب کتب کثیرہ مولانا مؤمن خان عثمانی صاحب کی ہمراہی میں بابا شیرانی صاحب کی عیادت کے لیے جانا ہوا۔

پرسان طبع وعیادت کے بعد درویشانہ خواں لگا جو شاہانہ تبذیر سے بالکل خالی تھا کھانے پر بے تکلفانہ علمی وفکری گفتگو جاری رہی۔
موضوعات کے حساب سے اگر قسط وار روئیداد لکھی جائے تو اول قسط فکر شاہ ولی اللہ اور تنظیم فکر ولی اللہی بنتی ہے دوسری قسط اشتراکی وسرمایہ دارانہ نظاموں کا تقابلی جائزہ اور اس میں موجود نقائص تیسری قسط افغان جنگ سے متعلق بابا شیرانی کا موقف۔

اول دو موضوعات پر تبادلہ خیال چونکہ طویل الذیل ہے اس لیے اس کو چھوڑ کر آخری موضوع کو اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

بابا سے پوچھا کہ افغان جنگ کے حوالے سے آپ کے موقف کے بارے میں متفرق ومختلف آراء سامنے آتی ہیں جس سے ایک کنفیوژن سی پیدا ہوتی ہے اگر مناسب خیال کرے تو اس کی وضاحت فرمائیں

ان کے تفصیلی جواب کے خلاصہ کا خلصہ یہ بنتا ہے کہ افغان جنگ کے چار مختلف اداوار رہے ہیں اس میں ہر دور کے حالات مختلف تھے اس لیے اس متعلق آراء بھی مختلف ہیں۔

پہلا دور وہ تھا جب سویت یونین افغانستان پر حملہ آور ہوا۔ (1979تا 1989) دوسرا دور جب روس نکل گیا اور مجاہدین وقوم پرست جھتوں میں لڑائیاں چل رہی تھی۔ (1989تا 1994) تیسرا دور جب مجاھدین اور مدارس کے طالبان کو اٹھایا گیا۔ (1994 تا 2001) چوتھا دور جب امریکہ افغانستان کی سرزمین پر اترا۔ (2001 تا حال)

پہلا دور:
پہلے دور میں چونکہ روس نے ایک آزاد قوم پر یلغار کرکے حملہ کیا تھا اور مظالم ڈھا رہا تھا اس لیے اس متعلق مزاحمت کو اتفاقا اہل علم وفکر نے جہاد قرار دیا تھا۔

دوسرا دور:
دوسرے دور میں چونکہ روس نکل چکا تھا لیکن باہمی لڑائی سے استخلاص وطن کی تحریک کے نتائج وثمرات ضائع ہو رہے تھے اور مجاھدین کی بدنامی کا باعث بن رہا تھا تو اس لیے اہل فکر نے اتفاقا اس کو خانہ جنگی اور فساد سے تعبیر کیا تھا۔

تیسرا دور:
اور تیسرے دور میں جب امریکہ نے دیکھا کہ روس نکل چکا ہے اور یہاں اپنا قبضہ جمانا ہے تو اس نے سوچا کہ قوم پرستوں کو سپورٹ کیا جائے یا مجاھدین کو؟ انہوں نے جب جائزہ لیا تو یہ ان کو لگا کہ اول تو قوم پرستوں کو جنگ پر ابھارنے کے لیے خطیر رقم لگانی پڑے گی کیونکہ ان میں جنگ کا جذبہ کسی مالی منفعت ہی کی بنیاد پر بیدار ہوسکتا ہے دوم اس میں یہ امکان ہے کہ جس طرح قوم پرست پہلے روس کے حمایتی رہ چکے ہیں شاید پھر اس طرح جا نکلے۔ دوسری طرف مجاھدین اور مدارس کی خفتہ قوت یعنی طالبان کو اگر اٹھایا جائے تو ایک تو یہ روس کے پکے خلاف ہیں دوم ان میں جنگ کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے خطیر رقم لگانے کی ضرورت چنداں نہیں ہوگی بلکہ اکثر فی سبیل اللہ یہ خدمت سرانجام دینگے سوم ان کے اس جنگی عملیات اور شدت پسندی کو عکس بند کراکر مغرب کے سامنے پیش کرینگے تو مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامی رجہان کو کسی قدر روکا جاسکے گا۔ چناں چہ انہوں نے طالبان اور مجاھدین کو اٹھایا اس دور متعلق اہل فکر کی دو رائے بنی بعض علماء کے سامنے سابقہ جھتوں کی جنگ کا خونین دور تھا انہوں نے اس تحریک کو سراہا اور جہاد قرار دیا اور بعض سیاسی مفکرین نے آئندہ دور رس نتائج کو دیکھ کر اس کو نقصان وضیاع سمجھا چناں چہ اس پر میں نے پہلے سے تنبیہ کی تھی کہ اس کے نتیجہ میں امریکہ افغانستان میں داخل ہوگا اور اس سے اسلامی اعتدالی صورت مسخ ہوگی، وقت نے ثابت کیا کہ ہمارا اندیشہ درست تھا۔

چوتھا دور:
اس کے بعد جب امریکہ نے اپنے آنے کا جواز پیدا کیا تو امریکہ آیا اور یہاں آنے میں اس کے تین مقاصد تھے یہاں کے معدنیات ووسائل پر قبضہ، نیٹو اتحاد کو برقرار رکھنے کا جواز، اسلحہ کی تجارت اس دور کے بارے میں میرا ماننا یہ ہے کہ جب تک ہم لڑتے رہیں گے تو امریکا قابض ہی رہے گا لیکن جب ہم عدم تشدد پر آئیں گے تو اقوام عالم کے سامنے اس کے پاس پیش کرنے کا جواز نہیں رہے گا۔

الغرض 1979 تا 1989 بالاتفاق جائز جدوجہد
1989 تا 1994 بالاتفاق خانہ جنگی فساد۔ اور 1994 تا 2001 بعض کے نذدیک جہاد ہمارے نزدیک نادانی 2001 تا ہنوز امریکہ کا قبضہ بالاتفاق ناجائز اس کے خلاف حکمت عملی میں اختلاف بعض کے نزدیک مسلح جنگ، جبکہ میرے نزدیک عدم تشدد کی حکمت عملی نتیجہ خیز ہوگی۔

بابا شیرانی صاحب نے ہمیشہ کی طرح بے حد محبت فرمائی اور بندہ کو ڈھیر ساری دعائیں دی اور اس خواہش کے ساتھ (کہ آئندہ دو تین دنوں میں اہل ذوق احباب کے ساتھ مجلس کرینگے،) ان سے رخصت لیکر سوئے منزل چل پڑے۔

اسلام کی غلط تشہیر سے

‏اسلام فرقوں اور مسالک میں بٹ چکا ہے۔ ہر کوئی اپنے والے اسلام کو سچا سمجھتا ہے۔ مسلم امہ مختلف عربی و عجمی قوموں میں تقسیم اور ابتر حالت میں ہے۔ پھر بھی یہ دین کامل، فطرتی مذہب ہے اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔

 

 

 

 

  1. اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے غیر قانونی فتاویٰ پر سخت سزاؤں کا مطالبہ
  2. شیرن شیر بلوچستان
  3. تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرے، جس میں غیر مناسب فتوے جاری کرنے والوں کے لیے 2،500 ڈالر (347،000 روپے) جرمانہ یا تین سال سزائے قید شامل ہے۔
  4. انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا اطلاق کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور ہم ان علماء کے لیے سخت سزائیں چاہتے ہیں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، مسلمانوں کو کافر یا غیر مسلم قرار دینے والے فتوے جاری کرتے ہیں اور انہیں شریعت کی رو سے واجب القتل قرار دیتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "ایسے تمام فرمان کونسل کی جانب سے مسترد کر دیئے گئے ہیں۔”

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے غیر قانونی فتاویٰ پر سخت سزاؤں کا مطالبہ

کونسل ان علماء کی مذمت کر رہی ہے جو ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جن سے خودکش حملوں کی حمایت ہوتی ہے یا جھوٹ بول کر افراد کو کافر قرار دیتے ہیں۔
از اشفاق یوسفزئی
Twitter Facebook

اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے ارکان 28 نومبر کو اسلام آباد میں ایسے علماء کے لیے سخت ترین سزاؤں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے جو خودکش بم دھماکوں کی حمایت میں فتوے دیتے ہیں اور دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ [سی آئی آئی]
اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے ارکان 28 نومبر کو اسلام آباد میں ایسے علماء کے لیے سخت ترین سزاؤں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے جمع ہوئے جو خودکش بم دھماکوں کی حمایت میں فتوے دیتے ہیں اور دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ [سی آئی آئی]

اسلام آباد — اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، پاکستان کا ایک آئینی ادارہ جو حکومت اور قومی اسمبلی کو اسلامی امور پر قانونی مشورہ فراہم کرتا ہے، نے ایسے غیر مجاز علمائے دین کے لیے سخت ترین سزاؤں کی سفارش کی ہے جو یا تو خودکش حملوں کی حمایت میں فتوے دیتے ہیں یا دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔

” پیغامِ پاکستان دستاویز ، جو 10 ماہ قبل چار بڑے مکتبہ ہائے فکر کی نمائندگی کرنے والے 1،829 علمائے دین کی معاونت سے تیار کی گئی تھی، خودکش حملوں، فرقہ واریت، انارکی پھیلانے اور ریاست کی رضامندی کے بغیر جہاد کرنے کو غیر اسلامی قرار دیتی ہے،” اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔

28 نومبر کو، اسلام آباد میں اس موضوع پر اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کے کام کرنے پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے ایاز نے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری (بائیں) اور اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز (بائیں سے دوسرے) 28 نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ [سی آئی آئی]
وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری (بائیں) اور اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز (بائیں سے دوسرے) 28 نومبر کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ [سی آئی آئی]

انہوں نے وضاحت کی کہ پیغامِ پاکستان فتوے کو 5،000 علمائے دین کی جانب سے منظور کیا گیا تھا جو وفاق المدارس کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جو کہ دنیا بھر میں اسلامی مدارس کی سب سے بڑی فیڈریشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر مجاز افراد جو محسوس کردہ گناہگاروں کو واجب القتل کہتے ہیں اور خودکش حملوں کی حمایت کرتے ہیں ان جلد از جلد روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔قانون کا نفاذ
ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجودہ قوانین کے سخت اطلاق پر زور دیتی ہے تاوقتیکہ حکومت نئی قانون سازی کر لے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے موجودہ قوانین کے مطابق سخت سزاؤں کی سفارش کی ہے اور انتہاپسندی کو فروغ دینے کے خواہشمند علماء کے لیے سزاؤں میں اضافہ کرنے کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔”

ایاز نے مزید کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل چاہتی ہے کہ حکومت تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرے، جس میں غیر مناسب فتوے جاری کرنے والوں کے لیے 2،500 ڈالر (347،000 روپے) جرمانہ یا تین سال سزائے قید شامل ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا اطلاق کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور ہم ان علماء کے لیے سخت سزائیں چاہتے ہیں جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، مسلمانوں کو کافر یا غیر مسلم قرار دینے والے فتوے جاری کرتے ہیں اور انہیں شریعت کی رو سے واجب القتل قرار دیتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "ایسے تمام فرمان کونسل کی جانب سے مسترد کر دیئے گئے ہیں۔”

انہوں نے کہا، "ہم وزراء کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ کونسل ایسے تمام فتووں کو مسترد کرتی ہے جو خلافِ قانون جاری کیے گئے ہیں۔”

وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، نور الحق قادری جو اجلاس میں شریک تھے، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت ان لوگوں کا پیچھا کرنے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرے گی جو دہشت گردی کرنے کے لیے مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمارا دینِ اسلام امن اور بھائیچارے کی وکالت کرتا ہے۔”

دریں اثناء، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی کوششوں کے جزو کے طور پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی طلب کریں۔

یہ یاد دلاتے ہوئے کہ مذہبی انتہاپسندی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم ان لوگوں کو سزائیں دینے کے لیے سختی سے قانون کا نفاذ کرنا چاہتے ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہیں اور فتوے کی آڑ میں قتل و غارت کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔”

خان نے کہا، "ہم معاشرے کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت دہشت گردی سے اس کی تمام تر شکلوں اور مظاہر میں نمٹنے میں مخلص ہے۔ کسی کو بھی مذہب کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”دہشت گردی کے خلاف ایک اہم اقدام
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔

پشاور کے مقامی سینیئر دفاعی تجزیہ کار، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ماضی میں اپنے مفادات کے لیے ہمیشہ اسلام کا نام استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "شروع میں طالبان جنگجوؤں کو احترام ملا تھا کیونکہ وہ اسلام کی حفاظت کے لیے فوج سے لڑنے کے دعویدار تھے، لیکن بعد ازاں انہوں نے اسکولوں پر حملے کر کے، ویکسینیشن کو روک کر اور مارکیٹوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے بے گناہوں کو ہلاک کرتے ہوئے خود کو بے نقاب کر دیا۔ عوام کو عسکریت پسندوں کا اصلی چہرہ دکھانے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا اہم کردار ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر تشہیر کرے گی دہشت گردی خلافِ شریعت ہے۔

پشاور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فوج نے دہشت گردوں کو بھگا دیا ہے، لیکن ہمیں انہیں تنہا کرنے اور عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں فساد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا، "بہت سی دہشت گرد تنظیموں نے اپنے ان دعووں سے مذہب کو بدنام کیا کہ وہ جہاد کر رہی ہیں۔”

چمن۔ انسان امت واحدہ ہے۔ انتشار کے اسباب کا سدباب کرنا ہوگا۔ مولانا محمد خان شیرانی صاحب

جو اشخاص دین کی نسبت سے ایک جگہ اکٹھےہوں تو اللہ تعالی ان کی مغفرت فرماتا ہے۔

کان الناس امت واحدۃ ۔۔۔الاآخر۔۔۔۔۔۔۔ علماء اکرام اس بارے سے بخوبی واقف ہونگے کہ کَانَ کے معانی ماضی سے حقایت ہے۔ اگر کَانَ کی معانی یہ ہوں کہ انسان ایک امت تھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کی ابھی اُمت نہیں رہی۔ اور

اگر انسانیت ایک امت تھی تو پھر تو اختلاف پیدا ہونا ضروری امر ہے۔ اگر اس تاویل پر اس اَیت کو لے لیں تو اس کا معنا یہ لیا جائیگا۔
فختلفو کے بعد فبعثو یعنی جب اختلاف بڑھا تو اللہ تعالی نے انبیا کو بھی مبعوث فرمایا تاکہ ان کے اختلافات دور کریں اور انہیں صحیح راستہ دکھائے۔
کَانَ عربیت کےلحاظ سے اس طرح ہوگا کہ اِنَ اللہ کَانَ غَفورُ رَحیماَ۔۔۔ تو اگر کَانَ کا مطلب یہ ہو کہ اللہ غفور رحیم ہے۔ اَبد سے لیکر قیامت تک۔ تو پھر انسان بھی ایک امت واحدہ کہلائی جائے گی۔ اگر علماء اکرام غور فرمالیں اور ہم امت کے نقطے پر توجہ دیں۔ یعنی اُم کے مبالغہ سے امہ یا امہہ اور جمع اس کا امہات بنتی ہیں۔ اور عربی لغات سے اگر اُم کی معانی معلوم کی جائے تو اُم کے کافی معانی مفہوم کے لحاظ سے یہ ہونگے۔

1. "اُم بمعنی اصل”
انسان کی خاکی بدن اور جسد کی اصل ایک ہے اور وہ ہے مٹی۔ اور یہ مٹی زمین کے خلاصے سے لی گئی ہیں جس میں مٹی کے تمام رنگ و خواص موجود ہے۔ لہذا انسان کے بدنی اجزاء اور رنگ و خواص اسی مٹی سے بنی ہیں اس لئے اس میں انسان کا کوئی کمال نہیں بلکہ اللہ تعالی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور مٹی ہی انسان کی اصل ہے۔

2. اُم یعنی اصل ہے۔
حجتہ الوداع کے موقع پر نبی کریم ص نے اس بارے تاکید کی ہے کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت حاصل نہیں۔ فوقیت صرف تقویٰ پر ہے۔

3. اُم بمعانی جڑ۔
درخت کی جڑ ایک ہوتی ہے اگر اس جڑ سے بیسیوں شاخیں نکلتی ہوں تو بھی جڑ کی احیثیت پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انسان کے مادے مٹی کے بعد دوسری درجے کے طور پر بھی جڑ ایک اہم بنیاد ہوتی ہیں۔ اگر انسانی درخت سے جتنی بھی شاخیں نکلتی ہوں تو بھی اسی ایک جڑ کی بنیاد پر ہی یہ شاخیں ہونگی۔

4. اُم معانی ماں۔
ماں کا تصور بہت ہی عمدہ اور اعلی ہے۔ اگر کوئی مالدار فرد ہو اور اس کی اپنی گلہ بانی ہوں تو وہ اپنے گلہ بانی میں محبوب حیوان، اونٹنی، بکری، گائے وغیرہ اسی مالدار کے ریوڑ میں معلوم دار بھی ہوتی ہیں۔ ۔ ریوڑ میں اسی چہتے حیوان کی نسل بھی اس کے نسل سے پہچانی جاتی ہیں کہ یہ فلاں بھیڑ، بکری وغیرہ کی نسل ہے۔ اب جبکہ ہماری ماں حضرت حوا ہے۔ اور پوری انسانیت حوا سے ہے تو پھر ہم امت واحدہ ہی کہلائنگے۔

5. اُم بمعانی مقصد۔
پوری انسانیت کا زندگی گزارنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے۔ کہ خود بھی سکون سے رہوں اور دوسروں کو بھی ایضا نہ پہنچے اس لحاظ سے بھی انسان ایک مقصد رکھتے ہے جیسا کہ رہین صحن، خوراک، رہائش وغیرہ

6. اُم بمعانی قامت۔
جس انسان کے کمر یعنی ریڑھ کی ہڈی تندرست ہو تو وہ انسان بھی توانا ہوتا ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی اگر کسی بھی ضرر سے محفوظ رہا ہو تو انسان بھی قوت سے بھرپور ہوگا۔ جیساکہ انسان کی جسمانی ساخت ریڑھ کی ہڈی کی ساتھ مربوط ہے اس طرح ایک انسان دوسرے انسان سے بھی اسی طرح مربوط ہوتا ہے۔

7. اُم بمعانی نعمت۔
انسانیت کیلئے توحید نعمت ہے۔

8. اُم بمعانی ایمان۔
انسانیت کیلئے توحید کو جاری اور برقرار رکھنے کیلئے امام
نسب امام پر تمام آئمہ کرام کا اتفاق ہے۔ یہ بہت اہم مسئلہ ہے مثلاً نماز اگر قضا ہوں تو اسکا گناہ تو ہوگا لیکن جب ایک شخص نماز کی فرضیت سے ہی واقف نہ ہوں تو یہ اس سے بھی زیادہ گناہ کے زمرے میں ائے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ انسان واحد امت ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اپنی پیغمبروں کو مبعوث فرماتا ہے۔ تاکہ وہ انسانیت کو تنزلی، انتشار اور بربادی سے بچائے اور انہیں راہ راست پر رکھے۔

مادی زندگی کے تنازعات کے حل کیلئے اللہ نے انسان کو کتاب دیا ہے تاکہ وہ مادی زندگی کے مشکلات حل کریں اسی طرح اسی کتاب میں ارشاد ہوا ہے کہ اختلاف پیدا نہ کریں۔ بلکہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تامے رکھوں اور تفرقو میں مت بٹو۔

رسول اکرم ص کی روایت ہے۔ کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام دنیا میں غالب دین ہوگا۔ لیکن مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہونگے جو کہنگے کہ مجھ سے اللہ کے کتاب سے زیادہ کون واقف ہوگا۔؟ حضور اکرم ص سے صحابہ اکرام رض نے پوچھا کہ ایسے دور میں مسلمانوں کی قوت مظبوط ہوگی تو حضور اکرم ص نے فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہونگے جو اُمت میں انتشار کا سبب ہونگے۔

ایک دفعہ اسلام اباد میں یوسف رضا گیلانی وزیراعظم اور اصف زرداری صدر تھے۔ سرینا ہوٹل میں نیشنل ہارمونی یعنی قومی وحدت کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا تھا اور اس میں میں بھی شریک تھا۔ مختلف مباحث ہوئے جب میری باری ائی تو میں نے پوچھا کہ حضرات اکرام پہلے تو یہ طے کیا جائے کہ انتشار کے اسباب کیا تھے؟ اور پھر ان اسباب کو ختم کیا جائے پھر دیکھنا کہ قومی وحدت خود بخود کیسے وجود میں اجاتی ہیں۔

لیکن یہاں دعوے کچھ اور ہے اور عملیات کچھ دوسرے ہے اسی لئے تو انشتار پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہے کہ جھوٹ، زنا، شراب، سود، الزام تراشی اور دوسرے انسان کا حق حرام سمجتھا ہے۔ تو اگر اج ہر شریعت کے ماننے والے اپنے اپنے شریعتوں پر عمل کریں تو کیا امن اور یکجہتی نہیں آسکے گی۔؟

دوسری بات اگر توحید چاہتے ہو تو دعوے اور عمل کو ایک کریں سب کچھ حل ہوجائیگا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی میں اج بھی ممبران نے ایک مشترکہ قرارداد لایا کہ تمام مزاہب کے تہواروں میں شراب پر مکمل ائینی پابندی لگائی جائیں لیکن مسلمان رہنماوں نے اس بل کو مسترد کردیا تھا جبکہ غیر مسلم ممبران چلاتے رہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنےارد گرد کا جائزہ لیں کہ ہم کس طرف جارہے ہیں۔ جہاں مسلم ممبران غیر مسلم اقلیتوں کے نام پر شراب کو جائز سمجھتے ہوں بلند و بانگ دعوے کرتے ہوں لیکن عمل اس کے خلاف کرتے ہوں تب انتشار کے اسباب تو پیدا ہونگے۔

دوسری بات یہ کہ ہر شریعت کا امام اگرچہ مجتہد ہی کیوں نہ ہو اگر یہ سوچے کہ میرا کام پیغام رسانی ہے نہ کہ پیغام کو بسبب طاقت نافذ کرنا ہے ۔ تو انتشار پیدا کرنے کے مواقع کم ہی نہیں بلکہ ختم ہو جائینگے ۔

انتشار کا تیسرا سبب جنت ہے جو موت کے بعد کا معاملہ ہے۔ ہر شریعت کے مالک یہی سمجھتے ہے کہ جنت ہمارا گھر اور دوزخ ہمارے لئے جیل ہے۔ جنت اور دوزخ کے فیصلے اللہ تعالیٰ کے طاقتور ذات پر چھوڑنے کے بجائے خود اپس میں دست و گریبان ہے۔

یہودی کہتے ہے کہ ہمارے سوا کوئی جنت مین داخل نہیں ہوگا۔ ہمارے لئے معین وقت کی سزا ہے اور اس کے بعد ہم جنت میں ہونگے۔ عیسائی کہتے ہے کہ صرف یہودی اور عیسائی اہل جنت ہونگے اور ہمیں تو وہ قریب بھی نہیں چھوڑینگے۔ جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ جنت اور دوزخ کا مالک اللہ کی وحدہ لاشریک ذات ہے وہ چاہئے تو جنت نہ چاہئے تو دوزخ. ہمیں اپنی دنیاوی زندگی پر غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو کیسے گزار رہے ہیں کیا یہ وہی زندگی ہے جس کے بارے اللہ تعالی وقتاً فوقتاً امت کو مطلع کیا ہے۔

حدیث ہے کہ طاقتور انسان وہ ہے جس کا نفس اس کے کنٹرول میں ہوگا۔کمزور وہ ہوگا جس کا نفس اس کے قابو میں نہیں ہوگا۔ اج ہم اللہ کی نافرمانی حضور کے شفاعت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔ خیانت کرتے ہیں، جھوت بولتے ہے، انتشار پھیلاتے ہے۔ کہ ہمارا پیغمبر ہمارا شفیع بن جائیگا۔ زرا غور کیجئے کہ اج ہم کہاں کھڑے ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس جنت کیلئے اج ہم لڑ رہے ہیں وہ تو موت کے بعد ہوگا۔ لیکن جنت کا مالک تو اتنا طاقتور ذات ہے کہ اسکا کوئی ثانی ہیں جبکہ غور طلب اور اصل بات یہ ہے کہ زندگی ہم نے کس طرح گزارنی ہے۔؟ اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر یا اپنی نفس کے طریقے پر۔؟

میرے بھائیو!
انتشار سے خود بھی بچئے اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ سچ بولیں۔ ہمارے سیاستدانون کے غلط رویوں سے عوام انتشار کا شکار ہوئے۔ سیاستدان اپنی فرائض منصبی سے انکھین نہ چرائے تو وہ دن دور نہیں جب ملک، قوم اور امت میں استحکام نہ ائے۔ ہر انسان اپنے حق کی ادائیگی کیلئے کردار ادا کریں اسی میں انسانیت کی بلائی اور فلاح مضمر ہے۔

ہماری مقامی حکومتوں کا اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ہمارے عوام کے مسائل کیا ہے اور ان کے حل کیلئے کیا سہولتیں درکار ہوں گے ان کی ضروریات کیا ہے انکی روزمرہ زندگی کے مسائل کا سدباب کیا ہونا چاہئے ۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ
بین الاقوامی دنیا کی منافقت کا عمل دخل انتہائی زیادہ ہے جس کا ایجنڈا انسداد دہشتگردی کے نام پر فروغ دہشتگردی ہے۔۔

وماعلینا الاالبلاغ

کلی حاجی محمد عمر چمن میں حاجی محمد خیر کے رہائشگاہ پر
مولانا محمد خان شیرانی صاحب کے خطاب سے اقتباس۔
مورخہ ۔2018/12/16

تحریر و ترتیب
عطاء الحق کاکڑ۔ ڈسٹرکٹ ممبر
سیکرٹری اطلاعات جمعیت علماءاسلام تحصیل گلستان